[Urdu] Get the foundation right

Auto-generated transcript:

الحمدللہ رب العالمين والصلاة والسلام علیہ الشرف والامبیاء والمرسلین محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تسلیماً کثیراً کثیراً۔ اپنے بھائی سوال کی امان اللہ سے کہ ربا کیا ہے سمجھئے۔

میں ایک بنیادی بات آپ سے ارد کرنا چاہتا ہوں بطور خود اپنے آپ کی آدھ دہانی کے لئے اور آپ لوگوں سے بعد اب آپ کے سامنے پیش ہے وہ یہ ہے کہ اصل مسئلہ جو ہے وہ ربا کیا ہے اور حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے کہ اس کا مسئلہ نہیں ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ اللہ کون ہے اور اللہ سے ہمارا تعلق کیا ہے اصل بنیاد وہ ہے یہ ربا شبا وغیرہ سب بات کی چیزیں ہیں اور اگر یہ بات بنیادی بات ہم کو اگر سمجھ میں آگئی کہ اللہ تعالیٰ کون ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمارا تعلق کیا ہے تو یہ باقی چیزوں کا کوئی اس کی اہمیت ہے مگر اس کی اہمیت ہے وہ کوئی ہمارے لئے ایک مرحلہ نہیں مانتی کبھی بھی۔

کو پیدا کیا تو اللہ نے ایک مقصد کے تحت پیدا کیا ایسا نہیں اللہ نے بیکار میں نہیں پیدا کیا اللہ نے کہا بیکار نہیں پیدا کیا اللہ نے کہا مقصد ہمارا جو ہے انفرادی ایک مقصد اللہ نے بتایا اور استعمالی مقصد اللہ نے بتایا انفرادی مقصد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے نہیں پیدا کیا انسانوں کو اور جنہوں کو سوائے اس کے کہ ہماری عبادت کریں۔

بمعنی عارفون تاکہ وہ ہم کو پہچانے عبادت کی معنی عبادت آپ کوئی ایسی چیز کی نہیں کر رہا ہے جس کے بارے میں کچھ جانتے ہی نہیں پہچانتے ہی نہیں تو پھر تو وہ یعنی اس کو کیا کہیں گے اللہ تعالیٰ کو تو ہم جان کے پہچان کے عبادت کرتے ہیں یا کرنا چاہیے اللہ کو پہچاننے کے معنی یہ نہیں آپ اپس میں ہماری جو پہچانی ہے اللہ اپنی شان کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے اپنے تعریف بیان فرمائی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے صفات اور اپنے خدرت کی بیان اللہ نے فرمایا تو اس کے حساب سے۔

تو یہ انفرادی انسان کا ہر انسان کا ہے مَا خَلَقْتُ جِنَّا وَلِنْسَ مُسْلِمَ مسلمان کو نہیں جو ماننے والا اس کا بھی فرد ہے نہیں ماننے والا کا بھی فرد ہے وہ نہیں کر رہا وہ الگ چیز ہیں فرد سب کا ہے سارے انسانوں کا ہے کہ اللہ کی عبادت کرے اور اللہ کے ساتھ شریک نہ کرے کیونکہ اللہ کا شریک کوئی ہے نہیں۔

یہ نفرادی ہو گئی اور استعمائی اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا کنتم خیر امت نخرجت لن ناس تعمرون بالمعروف و تنہونان المنکری و تبنون باللہ استعمائی اللہ نے فرمایا ہے کہ تم کو ہم نے خاص طور پر سیلیکٹ کیا ہے تمہارا تقرر کیا گیا ہے تمہیں نکالا گیا ہے انسانیت میں سے اور انسانیت کے لیے لن ناس اللہ نے کہا ہے لن ناس نہیں کہا انسانوں میں سے نہیں کہا وہ تو انسانوں میں سے نہیں کہا لیکن انسانیوں کے لیے کیا مانی کیا ہے وہ بھی تعریف والا نے بیان کر دی کہ ہمارے بھی معروف کرو نہیں انہیں منکر کرو نیکی کا حکم دو برائی سے روکو اور اس پہ تم خود ایمان لے آواز تو یہ ہمارے دو یعنی بنیادی مقاصد ہیں ہماری زندگی کے پیدا ہونے کے ہمارے دنیا کے اندر رہنے کے کہ ایک ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت کریں اور عبادت سے مراد اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت ہے عبادت سے مراد صرف نماز رضا حد زکاة نہیں ہے اللہ کی اطاعت ہر چیز کے اندر ہے اٹھنے بیٹھنے میں یا آپ کا ربا کا سوال اسی میں آتا ہے اللہ کی اطاعت کریں لیکن ربا کا سوال ہی کیوں آیا کہ بھئی ہم کو شیطان نے چکر ڈال کر رکھا ہے کہ جب تک کہ تم اللہ کی نافرمانی نہیں کرو گے وہ نافرمانی بھی چوٹی ہی کرو ایسی نافرمانی ہی کرو کہ جس کے اوپر اللہ تعالیٰ نے جنگ کا وعدہ فرمایا ہے وہ کرو چھوٹی مٹی مت کرو زنا مت کرو شراب مت پیو چھوٹی چیز ہے اللہ نے زنہ زانی کے اوپر۔

نہیں ربا میں جو ڈیل کرتا ہے جو انٹرسٹ پہ ڈیل کرتا ہے جو جو خرید و فروغ کرتا ہے اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خرز لینے والا دینے والا وہ اس کا ڈیٹیل لکھنے والا اور جو دو گواہ ہوں گے سب برابر ہیں آپ نے فرمایا اللہ کی لعنت بھیجا تو شیطان سکا ہے کہ بڑی بڑا کام کرو بڑے بہدوری سے کرو بڑا کام کرو اللہ تعالیٰ سے لڑ لو بھائی جب خیالوں سے پیدا پہنچا ہو گئے حدیث آپ نے فرمایا صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو ربا کے ڈیل کرنے والے ہیں ان کے ہاتھ میں تلوار دے دی جائے گی کہ جاؤ لڑو تم نے جو اللہ تعالیٰ کا جو اعلان جنگ تھا اور اللہ نے آپ اللہ کے طرف سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرف سے دونوں کے طرف سے اللہ نے کہا کہ جنگ کا اعلان ہے اب ہم نے کہا نہیں ہم قبول کرتے ہم جب خیام پہنچا آپ کی ہم کو مغفر فردن ضرور نہیں چاہیے آپ سے ہم لڑیں گے انہا لیلہی و انہا لیہ رسول اللہ اور کس لیے تاکہ ہمیں ایک گھر بنائیں تاکہ ہمیں ایک موٹر خریدیں اور اس کی روا کی ضرورت نہیں آپ اچھے بہترین موٹر خرید سکتے ہو جو کہ سکینہ نے جیم میں آپ پیسے لال کے خریدیں گے بھی آرام سے آپ اس کو گاڑی میں رکھ کے سوئیں گے بھی کہیں لگ بھی گیا تو آپ کو فکر نہیں نہیں ہم کو فلانی گاڑی چاہیے جو کہ ہمارے تین پوچھتا کم آگے کھائے بھی تو اتنا پیسہ ہمارے پاس کبھی آئے گا نہیں وہ گاڑیاں ہم خرید رہے ہیں خرد لے کے اور اس سے اللہ کے ساتھ جنگ کا ہم اعلان قبول کرتے ہیں۔

سوچ کے دیکھیں گوڑیانی بات کیوں کہ ہم اللہ کو نہیں جانتے اللہ کو نہیں جانتے اصل مقصد پرابلم کیا ہے کہ ہم اللہ کو نہیں جانتے تو جو خشیت اللہ ہمارے دل میں ہونی چاہیے جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا اور عجیب و غریب قرآن مجید کا بیان ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کو ہم کو قرآن مجید کو سمجھنے کا اور اس کا فہم اللہ عنایت فرمائے عجیب و غریب بیان ہے اللہ نے فرمایا سب سے پہلے اللہ نے فرمایا آپ سوچیں دیکھو وہاں سے کیوں شروع کیا اللہ نے کہا ایک نہیں ہے جنت والے اور جہنم والے اتنی بڑی بات کس لیے شروع کیا۔

اصحاب الجنتی ہم الفائزون صرف وہی ہیں وہ جو کامیاب ہوگئے ہیں یہ نار والے نہیں چاہے دنیا کے اندر جتنا چھلانگ لگاؤ جتنا کھیل کھیلتے کھیلو ابھی ہم وہی بات کرتے آرہے تھے کھانا کھانا کھانا کھانا تو وہ امریکہ یہ کر رہا ہوں ارے جو چاہے کرو یار کسی نے ہم کو قرآن مجید کے اندر یہ فیرون و شداد و ہامانو یہ سارے کسی اللہ نے کہا کہ سارے کے سارے آپ کو نقشے دکھیں گے کوئی نئی چیز نہیں جو آج کل آج جو ڈانرڈ ٹرم کر رہا ہے کوئی بھی نئی چیز نہیں ہے یہ سب کچھ ہم نے دیکھا ہماری مشہورت کیا ہے نہ تاریخ پڑھتے نہ کوئی کتاب پڑھتے۔

نہ قرآن مجید کو پڑھتے پڑھے بھی تو بس عربی تو آتی نہیں عربی میں سب جیت برکت کے لیے ہم پڑھ لی ہم نے کب کہا کہ برکت نہیں ہے نہیں سمجھ کے پڑھنے والے کو بھی سواب ہوگا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنا کرام بغیر سمجھ کے پڑھنے کے لئے نازل نہیں فرمایا۔

سامخا کے لوگ الٹی ہو جاتے ہیں سواب کی کون بات کر رہا ہے سواب تو ہوگا اس کے لئے اللہ نے بھیجا اللہ نے کلام اپنے سواب کے لئے بھیجا یا اپنی زدہی کو اس پر لاکے اس کے تحت اپنی زدہی چلانے کے لئے کس نے بھیجا اللہ نے تو اللہ نے مطلب دیا پھر اللہ نے کہا مثال اللہ نے دی لو اندلنا هذا القرآن علی جبل لرائیتہو خاشیاں متصدیاء خاشیاں متصدیاء من خشیت اللہ و تلکا لمثال نضربها لناس لعلہم یتفکرون۔

میں ایسا ہی دوسرا میں گوپتا ہوں ادھر ادھر وائل لائف کا ادھر اب بھی زیمبیا سے میں آیا میں اسی لئے گھومتا ہوں اللہ نے کہا رہا کہ پہاڑ ذرہ ذرہ لرس کے تو جا کے پہاڑ دیکھیں تو سیکھا مزکا۔ یہ کام کا آپ لوگ کیجئے خود بھی کیجئے بچوں کو بھی لے جائیے ایک پہاڑ کے پاس چلے جائیے اور بہت بڑا پہاڑ ضرورت نہیں ہے جتے بھی ہے ٹیلے آپ وہاں جا کے بیٹھ جائیے آپ کہ یہ پہاڑ جو میرے سامنے ہیں imagine کریں کہ یہ ایسے لرس کے حضر کے مٹی ہو گیا بلکل how is it possible آپ سوچ کے دیکھیں اللہ کہہ رہے ہیں لماذا خاشیم متصدیم من خشتی پھر اللہ نے کہا یہ مثال تم دے رہے تھا کہ سمجھ میں آئے تمہارے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا تعرف فرمایا۔ میں کہہ رہا تھا ہمارا محاضرہ ہوا ماہد میں تو میں نے کہا کہ تعرف جو ہوتا ہے کسی کا تعرف کراتے ہیں تعرف کا میار کیا ہوتا ہے چھوٹے کا تعرف بڑے سے کراتے ہیں نے چھوٹے کا نام لیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ فلانہ ہے اور یہاں سے آیا اور یہ ہے اور وغیر وغیر وغیر بڑے کا نام چھوٹے سب نہیں لیتے انتہائی بتمیزی ہو گیا کوئی کرے گا ہے کیا نہیں۔

جو چھوٹا گیا بڑے سے مل لیں وہ تو جانتے ہی گیا وہاں گیا کیسے لیے وہ جانتا ہے کون ہے بڑوں کے سامنے یہ نہیں کہتے کہ یہ ہمارے نظام سرکار ہے وہ فلانے ہیں اور ان کے باوائیت ہیں اور ان کے ان سے کیا حضرت آپ کے سامنے حضور یہ سازر ہے اور فران ہے۔

اللہ تبارک و تعالی کی شان اللہ کی رحمت اللہ کی عظمت اللہ تبارک و تعالی کا اللہ تعالیٰ جو ہم کو اپنے جاننے کے لئے اللہ نے پیدا فرمایا اس کی اہمیت یہ دیکھئے کہ اللہ نے اپنا تعرف ہم سے کرایا کہ میں یہ ہوں۔ ایک ایک جو قرآن مجید کا ایک لفظ ہے نا اس پہ بہت انتہائی گوھر کرنا چاہیے اور اس ایک ایک آیت کے ٹکڑے پہ گوھر کرنا چاہیے۔

خوضہ اللہ لا الہ الاہ ہو اس کے ساتھ کوئی نہیں علا ہے کوئی بھی اللہ کے علاوہ خابل عبادت نہیں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہوا اللہ ہوا عالم الغیب ہمارا سارا مسئلہ وہی تو ہے نا کہ آگے کیا ہوگا لیکن اللہ عالم الغیب۔

اللہ عالم الغیب اسے ہمارے علماء کہتے ہیں کہ مستقبل کے بارے میں فکر مت کرو سے مراد ہے دنیا کا جو مستقبل ہے اس کے بارے میں فکر مت کرو کہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اللہ رحمن رحیم ہے برا کیسے ہوگا برا کیسے ہوگا یہ بات اور ہے کہ آپ جو ہو رہا ہے اس کو آپ سمجھ نہیں سکتے وہ الگ چیز ہے خضر علی صاحب نے بچے کو مارا تو وہ بزاہر تو برا ہی تھا تینوں اشارے جو تھی ہاں کشتی میں چھیٹ ڈالا بچے کو مارا اور یہ کیا تو وہ تو برا ہی تھا ہم نہیں سمجھ سکتے کہ یہ گیا تھا اب جب بتایا تو سمجھ میں آیا کہ اس کا ایک مقصد ہے اور اس کی حکمت اللہ کی وہ درہا چیز ہے تو مستقبل تو اللہ کیا تھا ہم کو اپنے مستقبل کے بارے میں میرا کیا ہوگا جب میں اللہ کے پاس جاؤں گا اس وقت کیا ہوگا کیونکہ میں نے جو زندگی گزاری اللہ نے آپ سے سوال نہیں کرے گا کہ گھر تم نے اپنا ذاتی گھر تم نے کیوں نہیں بنایا یہ اللہ نے سوال نہیں کریں گے سوال یہ ہوگا کہ ذاتی گھر بنانے کے چکر میں تم نے جو کیا اس پہ سوال ہوگا گھر یہی رہے گا آپ کا جو ڈیسیشن ہے وہ ساتھ میں جائے گا سوچو آپ گھر یہی رہے گا گھر کہ نہیں جائے گا گھر یہی رہے گا مگر جس ڈیسیشن سے آپ نے وہ گھر بنایا وہ آپ کے ساتھ جائے گا بانک سے لون لے کے انٹریس دے کے گھر بنا کے گھر کے اوپر ہادا من فدیر ابھی لکھتے ہیں انہا لیلہ ہی وہ انہا لیلہ ہی انہا لیلہ لکھتے ہیں کبھی سب ہوتا تو۔

میں خدا نکالت آپ کی تنخیر نہیں کروں آپ میرے کو بات کرنے کا بوقع دیئے اس لئے بول رہا ہوں وہ بات آپ کی نہیں ہے وہ سب کے لئے ہے سب کے لئے ہے نہیں وہ میں سمجھ گیا میں وہ سمجھ گیا میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ربا کیا چیز ہے پوچھنے سے پہلے اللہ کیا چیز ہے وہ پوچھو۔

سمجھے لیں آپ آپ کا سوال نہیں ہے سب کے لئے آج کا ربا کا جی آپ کا اکیلہ رہتا تو مسئلہ ساری دنیا کا ہے۔ تو پوائنٹ ایم میکنگ اس کے ہمیں اندرستان کرنا چاہتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آیت القرش میں وغیرہ صورت الاخلاص میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ہم اللہ کو سمجھیں اللہ تعالیٰ کی عظمت کو اللہ کی شان کو سمجھیں۔

تو جب اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان ہمیں سمجھ میں آ جائے گی اور ہم یہ سمجھ جائیں گے کہ ہمارا تعلق کیا اللہ سے ہمارا تعلق عبودیت کا تعلق ہے ہم اللہ کے عبد ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبد چونکہ ہیں اللہ ہم مریں گے تو اللہ کے پاس ہم جائیں گے اللہ کے پاس ہمارا سوال جواب ہوگا اللہ ماشاءاللہ اللہ نے معاف کیا بہت اچھا اللہ سے معافی کی دعا کرتے ہیں ابھی سے اللہ معاف کرے نہیں اگر اللہ نے کیا تو سزا بھی ہو سکتی یہ بھی اللہ تعالیٰ نے صاف صاف بول دیا ہے تو یہ جب آپ کو سوچ بھی آ جائے گا تو پھر یہ دنیا تو گزر جائے گی اس کا کوئی مسئلہ نہیں الحمدللہ ہم اس کے کے اندر پھر کام بھی کریں گے صحیح ترقیز کریں گے اللہ سے تعلق بنا کے کریں گے تو اللہ کامیابی کرے گا اللہ کامیابی دیں گے انشاءاللہ۔

میارات بدلنا بہت ضروری ہے یہ ربا وغیرہ کا مسئلہ اس لیے آتا ہے کہ ہمارے جو میار ہیں کہ سکسیس کیا ہے فیلیر کیا ہے کامیابی کیا ہے ناکامی کیا ہے یہ ہمارا میار سب الٹا ہے اگر ہم نے کہا جو جو قرآنی میار ہے جو اللہ نے بتایا کہ کامیابی کامیاب کون ہوا جس نے اللہ کو راضی کیا اب دیکھیں قد افلح المومنون اللہ نے کہا کہ مومنین کامیاب ہو گئے کون ہیں مومنین اللہ دینہ ہم فی صلات ہم خاشی ہوں وہ ایک ہی پہلی ایک کیوں لے کے چلے وہ جو کہ نماز میں خوشو رکھتے ہیں۔

تو ہم اگر ایک عام ماد بولتا ہوں اس لئے لوگ دعوت کرتے ہیں کو پہلے کہ یہ آپ کا سکس کے فیکٹرز لکھی ہے who is a successful person۔ آپ دیکھیں کتنے لوگ لکھتے ہیں دبان ہو ہے خوش ہوئے نہیں سرہ یہ آگا کہیں باقی سب آگا۔

جس نے اپنی نماز میں جس کی نماز میں خوش ہوئے یہ کوئی لکھے گا نہ صرف اللہ نے کہا اللہ نے نمبر ون پہ کہا سب سے پہلے اور اس چیز کو پھر بعد میں دسویں آیتیں گیارویں آیت میں اللہ نے پھر دوہر آیا۔

نماز کے خوشی ہو بھائی یہ جو سور مومنین کی جو ابتدائی آیت ہیں اس کے بعد میں اللہ نے کہا یہ تو جنت فردوس کے وارث ہے ان کا ہے انہی کو ملے گا یہ مس نہیں کر سکتے وارث کس کو بولیں گے وارث کون ہے جو کہ اس کا حق ہے۔

تو یہ دیکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جنت الفردوس کو جنت الفردوس کو جو اللہ نے کہا تو اللہ نے یہ نہیں کہا کہ وہ اس کو سمجھے کہ اس نے جنت کو کمایا اور یہ کیا اور محنت کر اللہ نے کہا یہ تو اس کا ورثہ ہے۔ یہ تو اس کا وارث ہے۔

اور کون وارث ہے وہ پوری اس کی فیرست ہے آپ پڑھ لیں خود اُس فیرس میں نمبر ون نماز میں خوش ہو۔ میں کہتا ہوں کہ یہ ہمارے جو میارات ہیں ان کو ہم بیٹھ کے ہم کو سُجنا چاہیے کہ ہم جو کامیابی اور ناکامی کے ہمارے میارات دنیا کے ہیں تو ہم لوگ اس کی کیا یہ کیوں ہیں اور کیسے وجہ سے۔

جبکہ قرآنِ مجید نے بلکل صاف تجھے کہہ پی کوئی اس میں شک نہیں شبا نہیں آپ کو کوئی لمبی چوڑی تفسیر پڑھتا ہے صاف صفی بات۔ اللہ زینہ ہم فی صلات ہم خوشیوں۔

تو میں اپنی بات کو اس بات پر ختم کرتا ہوں کہ ہم اپنے آپ کو جو بنیادی چیزیں لیکن بلڈنگ آپ بنائیں فرید بھائی کو اللہ تعالیٰ عجل عظیم حنایت فرمائے سب کو اللہ فرید بھائی کے بات سب کو بہترین کھانا آپ نے کھلایا بہت بہت ہمارے بشکور بامون ہیں اللہ آپ کو ہر قسم سے نوازے انشاءاللہ۔

تو ماشاءاللہ گھر بھی گھر بھی اتنا اچھا آپ نے بنایا بغیرہ بغیرہ میں کہتا ہوں گھر جب بناتے ہیں تو سب سے پہلے کیا کرتے ہیں فاؤنڈیشن اس کا بنتا ہے آپ بھی جانتے ہیں ہم بھی جانتے ہیں فاؤنڈیشن اگر صحیح نہیں ہے آپ بیلڈنگ اتنی چائے کھڑا کرو وہ تو منحدم ہوگی ایک ایک دن۔

تو آپ جب چاہتے ہیں کہ وہ منحدم نہ ہو تو برقرار رہے تو پھر فاؤنڈیشن سب پھر بڑی چاہتا ہے ہمارا فاؤنڈیشن ہے اللہ دینہ ہم فی صلاتی مخاوش جب نواز میں خوشیو آ جائے گا تو اللہ سے تعلق بن جائے گا اللہ سے تعلق بن جائے گا تو پھر جو مانگے گا اللہ دیں گے اللہ نے کہا ادھو نہیں استجب لگو مانگو مجھے تو۔

تو ختم مسئلہ حال مگر بنیاز ہونا چاہیے فاؤنڈیشن ہونا چاہیے یہ فاؤنٹنٹ ہے میں اللہ دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ ہم کو سب کو اپنی حفاظت دارکے ہماری ایمان کی ہماری آفیت کی صحتوں کی خاندانوں کی مال کی دولت کی اختدار کی حکومت کی ہر چیز کی اللہ حفاظت فرمائے اور ہر خیسم کے مشکلوں سے ہم کو اللہ تعالیٰ بری فرمائے اور آنے والی نسلیں اللہ تعالیٰ ہم کو توفیق دے کہ آنے والی نسلوں کی تربیت فرمائے صحیح تدقیس انشاءاللہ وصلہ اللہ علیہ وآلہ وآلہ۔