[Urdu] Seeratun Nabi ka maqsad

Auto-generated transcript:

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمين وصلات و السلام علی شرف الانبیاء و المرسلین محمد و رسول اللہ ﷺ تسلیمان کثیران کثیرہ فمبادو

انگریزی بولا ہے اردو انگریزی

انگریزی بولا ہے اردو

اللہ تعالیٰ کا بے انتہا فضل و کرم ہے بڑا انسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور ہم کو امت محمدیہ میں پیدا فرمایا اور پیدا ہونے کا احساس اور فقر انائد فرمائے یہ بڑی اہم چیز ہے اس کا خیال میں اپنے آپ کو یاد دلا دوں میں اپنے آپ کو بھی عدباً مدعی سے اس کے بارے میں سوچیں کہ کسی مقام پہ اور کسی جگہ پہ اور کسی منصف پہ ہونا ایک الگ چیز ہے بلکہ اس کا احساس ہونا وہ اصل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب احساس ہوتا ہے اس منصف پہ فائدہ ہے یا اس مقام پہ ہونے کا موجود ہونے کا یا اس محفل میں شرکت کا یا اس خاندان کے فرض ہونے کا تو پھر انسان کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اس منصف کا اس مقام کا اس شرکت کا اس فردیت کا کی ایک ذمہ داری ہے صرف یہ نہیں ہے کہ میں فراموشیوں میں ہوں اور یہ ہوں اور ان کی اولاد میں سے ہوں اور یہ مقام پہ ہوں جب اگر آپ ہیں تو اس کے معنی ہے کہ وہ ایک ذمہ داری کے ساتھ آپ کو ملتا ہے تو حضور اکرم ﷺ کے امتی ہونے کا جو ایک امتیاز اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہے جو کہ پیدا ہونے سے پہلے ہم نے دعا کی پیدا ہونے کے بعد ہم نے دعا کی تو اللہ نے ہم کو دے دیا کہ ہم مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے اور پوچھتے نہیں ہمارے باپ دادا بھی مسلمان تھے ان کے باپ دادا مسلمان تھے اللہ حالت کب تک یہ اللہ کا محض فضل و کرم ہے مسلمان ہونے میں ہمارے ارادے کا بھی ارادے کا بھی دخل نہیں ہے ہم نے سوچ کہ میں مسلمان بننا چاہتا ہوں یہ ہم نے نہیں کیا ہم تو پیدا ہی بیچا ہوئے بہت بڑا اللہ کا فضل ہے سوچ کے دیکھیں اگر ہم کو اللہ تعالیٰ اور ایسے آپ کیا سمجھتے ہیں ہمارے سامنے کئی نمونے ہیں لوگوں کے اگر ہم کسی غیر مسلم گھر میں پیدا ہو جاتے تو کیا ہم بولتے تھے کہ ہم آج مسلمان ہوں ہوتا اللہ نے کیا یہ ہم کو اللہ نے اس مرحلے میں ڈالے ہی نہیں کتا اللہ کا شکر سوچ کے دیکھیں اتنا اللہ کا شکر کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مرحلے میں ہم کو ڈالے ہی نہیں پہلے سے اللہ نے محبوظ کر دی تو اب جب اللہ نے یہ کیا ہے اور ہم کو اس عظیم و شان نعمت اللہ نے انعائد فرمائی کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے امت کے فردوں افراد میں سے ہیں تو اس کی ایک ذمہ داری ہے وہ ذمہ داری کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور وہ ذمہ داری یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے جو دین آپ نے جو دین لائیا اور آپ کے ذریعے سے جو دین ہم کو پہنچا اس دین پہ پورا پورا ہم عمل کریں اور اس دین کو ہم آگے پہنچائیں وہ بھی ہم جب بات کرتے ہیں تو آگے پہنچانے کی بات ضرور کرتے ہیں کہ دین کی دعوت دینی چاہیے دین کو آگے پہنچانا چاہیے خود کی عمل کی بات نہیں کرتے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تو سب جانتے ہیں مگر ایسا نہیں ہے اور یہ مثال اس کی ایسی طرح کے ہے کہ جیسے کوئی شما ہے تو اگر وہ شما ہے اور وہ یہ شما ایک عراضہ رکھتی ہے کہ ساری دنیا کو میں روشن کروں گی تو سب سے پہلے وہ کوئی کیا کرنا چاہیے خود اپنے آپ خود اپنے آپ کو روشن کرے پہلے اپنی تیلی تو جلائے اپنی تیلی تو بند ہے نہیں جلتی ہے پھر خواہش ہے کہ ساری دنیا کے شماوں کو ہم جلائیں گے کیسے جلائیں گے تو یہ مسئلہ ہے کہ لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے تو ذمہ داری ہماری یہ ہے کہ ہم سب سے پہلے جو دین حضور ﷺ لے کر آئے اس دین پہ ہم پورے پورے عمل پیرا ہوں

اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے بارے میں اور آپ کی حیات تیبہ کے بارے میں کیونکہ آج کا عنوان صیرت النبی کا ہے تو آپ ﷺ کے بارے میں اور آپ کی حیات تیبہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ اُسْوَةٌ حَسَنًا

لِمَنْ كَانَ يَرْجُ اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَةَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيراً

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یقیناً لَقَدْ كَانَ لَكُمْ تمہارے لئے فِي رَسُولِ اللَّهِ رسول اللہ ﷺ میں یعنی کہ آپ کی حیات تیبہ میں آپ کی زندگی میں اُسْوَةٌ حَسَنًا آپ کی زندگی جو ہے وہ اُسْوَة حَسَنًا ہے سب سے بہترین نمونہ ہے تمہارے لئے اور کس کے لئے اللہ نے اس کی تعریف پرائن کی یہ تم سے مراد کون ہے لِمَنْ كَانَ يَرْجُ اللَّهُ جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ملنے کا کی خواہش رکھتا ہے لِمَنْ كَانَ يَرْجُ اللَّهُ وَالْيَوْمَ الْآخِرَةِ اور قیامت کے دن کی خواہش رکھتا ہے وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيراً اب سوچ کے دیکھئے کہ قرآنِ مجید میں جو قیامت کے دن کے بارے میں اللہ نے ذکر فرمایا ہے تو کن الفاظ میں اللہ نے فرمایا ہے جز عمّا میں تو کئی جگہ ہے باقی اُت کے علامہ بھی سورہ واقعہ میں اور مختلف جگہوں پہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کا ذکر فرمایا ہے تو کیا فرمایا ہے کن الفاظ میں اللہ نے ذکر فرمایا ہے اِذَا وَقَاتِ الْوَاقِعَ الْحَقَّةُمْ الْحَقَّ الْقَارِيَةُمْ الْقَارِيَةُ اِذَا ذُلْتِ لَتِ الْأَرْضُ ذِلْزَالَحَا وغیرہ وغیرہ تو اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کا جو ذکر فرمایا وہ ایسے الفاظ میں فرمایا جو کہ انتہائی دھراونی اور حولناک اور اُس زمانے میں اللہ نے فرمایا ہے کہ پہاڑ جو آج تم سمجھتے ہو کہ بلکل ثبات کا وہ نمونہ ہے اور پہاڑ کے جیسی خوبت اور پہاڑ کے جیسی ثبات وہ تو ہوا میں جیسے غبار کے جیسے بڑھے گئے پہاڑ اور زلزال ایسے آئے گا کہ زمین جو ہے اپنا سارا بوجھ اٹھا کے پھینک دے گی باہر اور سارے انسان اپنے قبروں سے نکلیں گے اور میدان حشر کی طرف ان کو ہانک کے لے جائے جائے گا جیسے کہ کوئی بھیڑ بکڑے کو لے جائے جاتا ہے فرشتوں کے ساتھ وغیرہ وغیرہ اب آپ سوچ کے دیکھیں کہ یہ جب ذکر ہے اللہ سے ملاقات کو تو مسئلہ یہ ہے کہ چاہے آپ اور ہم ملنا چاہے ہیں یا نہیں چاہے اللہ کے سامنے تو پیش ہی ہے اللہ تعالیٰ وہ نہیں کہہ رہے اللہ یہ نہیں کہہ رہے کہ جو ہمارے سامنے پیش ہوگا نہیں اللہ کہہ رہے جو چاہتا ہے چاہتا ہے جو ملنا چاہتا ہے اب سوچ کے دیکھیں کہ جب وہ دن ایسا کہ اتنا ہولناک اور خوفناک کہ اللہ نے ڈرائے یہ کوئی مہجہ آپ کے سامنے آیتیں آیتوں کے جو ٹکڑے میں نے آپ کے سامنے دلاوٹ کیے کوئی میرا کلام سوچ نہیں ہے اللہ کا کلام قرآن مجید ہے تو اللہ تعالیٰ نے درائے ہے درو اس دن سے اس کی تیاری کرو کیونکہ یہ دن جو ہے سب پہ آئے گا سب پہ آئے گا کوئی بچے گا نہیں جب وقت آ جائے گا تو نہ تو اس کو پیشے کیا جائے گا نہ تو آگے لائے جائے گا نہ تو مواقع ہوگا نہ اس کو آپ آگے کر سکتے ہیں تو جب اس طرح سے اللہ نے درائے ہے تو اس کی خواہش کون کرے گا خواہش کون کر سکتے ہیں اس کی خواہش وہ کرے گا جس نے حضور ﷺ کی حیات تیبہ کو اپنی زندگی کے لئے نمونہ بنایا کیونکہ اللہ نے کیا کرے گا اللہ نے کہا کہ لَقَدْ قَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ وَسْوَةٌ حَشَنَا لِمَنْ قَانَ يَرْضُ اللَّهِ وَجَوْمِ الْآخِرَ وَضَكَرْ اللَّهَ كَثِيراً کہ حضور ﷺ کی زندگی کو اپنی زندگی کو اپنی زندگی کے لئے ایک حسنہ سب سے بہتری نمونہ بنا کے اپنی زندگی کو اس طرح جیو اپنی زندگی کو اس پر ڈالو جو یہ کرے گا وہ لوگ کریں گے جو کہ اللہ سے ملنا چاہتے ہیں تو کیا مانے ہوئے اس کے اس کے معنی یہ ہوئے انشاءاللہ اللہ کا کلام کے معنی اللہ ہی جانتے ہیں ہم تو کوئی اللہ کی طرف سے کوئی نمائندگی نہیں کر رہے مگر جو میری عقل میں بات آئی وہ یہ ہے کہ اس کے معنی یہ ہے کہ جو لوگ حضور ﷺ کی زندگی پر اپنی زندگی کو ڈالتے ہیں اور جو آپ کی سنتیں مبارکہ کو اپنی زندگی کا سمجھے کہ نقشہ بناتے ہیں اور اس پر چلتے ہیں تو ان لوگوں کو یہ ہولناک اور خوفناک حالات سے محفوظ کر دیا جائے گا تو پھر ان کو خواہش ہو ہم تو جانا چاہیں گے کیوں کہ ہم کو معلوم ہے یہ سب ہے جو ہولناک حالات ہیں وہ تو ہے اللہ کا کلام جو ہے تو ہے مگر ہم پر نہیں آئیں گے کیونکہ ہم کو ایک ایسی جگہ رکھا جائے گا جہاں پہ ہم محفوظ رہیں گے اللہ اپنے عرش کا سعائع عنایت فرمائیں گے آپ کو اپنے عرش کا سعائع عنایت فرمائیں یعنی الله الله

کی زندگی پر ڈھالا تو صیرت مبارکہ کے پڑھنے اور صیرت مبارکہ کے نہ صرف پڑھنے بلکہ اس کا اس نیت سے پڑھا جائے اور متعلق کیا جائے کہ ہم اس کو سمجھ کے اپنی زندگی میں اس کو لائیں تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انشاءاللہ علیہ السلام خیامت کے دن اللہ تبارک و تعالی کی حفاظت ہم کو نصیب ہوگی اب صیرت مبارکہ کو اس لیے بہت ضروری ہے کہ ہم لوگ اس کو نہ صرف مدارس میں اور جامعات وغیرہ میں بلکہ اپنے گھروں میں اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کے ہم صیرت کا متعلق کریں بہترین سے بہترین اور آسان سے آسان اور جس لیول کی آپ چاہیں صیرت کی کتابیں ایک نہیں ہزاروں ہے سب سے بہترین اردو آنوں کے لیے تو جہاں تک میں جانتا ہوں اللہمہ شبلی اور سید سلیمان ندوی رحمت اللہ علیہ و جمعین تو ان کی جو کتاب ہے صیرت النبی وہ سب سے بہترین کتاب ہے اردو میں اور اس کا ترجمہ بھی انگریزی میں خیال میں ہوا ہے اور اس کی سب سے بڑے وجہ یہ ہے کہ آپ لوگوں نے ان دو مولانا شبلی نے ایک جلد اس کی مکمل کی تھی پھر وہ آپ گزر گئے تو سید سلیمان ندوی رحمت اللہ علیہ و جمعین وہ پورے باقی سب انہوں نے مکمل کیا تو اس میں سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ صیرت کے واقعات انہوں نے ایسے لیے اور ان کو جو میار انہوں نے دیکھا وہ حجیث کے میار پہ دیکھا نہ کہ صیرت کے واقعات کے میار پہ اکثر جو ہے صیرت کے واقعات جو ہیں وہ حجیث کے میار پہ نہیں ہوتے وہیں کیونکہ صیرت سے اب آج کل فقہ صیرہ ایک علم نکلا ہے ورنہ نارملی جو ہے وہ استعواذ الحکام کے لیے صیرت کو استعمال نہیں کرتے وہ حجیث کو استعمال کرتے ہیں تو لہذا حجیث کے اوپر جو اس کی تحقیق وغیرہ ہوتی بڑی سختی سے ہوتی مگر صیرت پہ ہوتی نہیں ہوتی مگر ان لوگوں نے صیرت کے واقعات کو بھی اسی حجیث کے میار پہ انہوں نے کیا تو بڑے سمجھے کہ بڑے صحیح واقعات اور بڑی خوبصورت کتاب ہے اس کے علاوہ دوسرے بھی ہیں رحیق المقتوم ہے جو بڑی اچھی کتاب ماشاءاللہ حمدللہ ہے اور اس طرح سے کہیں تو سوال یہ ہے کہ یہ ایک اپنے گھروں میں ہم اس کو ایک روز کا ایک حصہ بنایا ہے تو ہر روز جو ہے وہ ایک وقت نکال کے آدھا گھنٹا پونٹھنٹا کوئی لمبا بٹنے کی ضرورت نہیں ہے اور سب سے بہترین طریقہ کے شام میں باد صلوات المغرب جیسے ہم آج بیٹھے ہیں تو اس طرح جب گھر میں لوگ واپس آ جاتے ہیں کاموں سے بیٹھیں اور بیٹھ کے جو ہے وہ سیرت کا اتالہ اور اس اتالے میں خاص طور پہ توجہ اس کی رہے کہ اس کو ہم اب ایک ہم سیرت میں ہم نے کوئی چیز پڑھی تو اپنی زندگی میں اس کو کس طرح ہم لا سکتے ہیں عمل کیسے کر سکتے ہیں اس میں بحث مواسو مطبق پڑھئیے اور اس کے اندر مسائل نکال کے مسائل کے اوپر بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس کا مطلب وہ نہیں ہے عمل کے اوپر کہ مثال طور پہ حضرت اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصیت تو میں کیسے بان کروں مگر ایک سب سے اور سب سے جب سب سے بڑی میں ہمیشہ بان رہے ہیں دعا میں چلتا ہے کہ سب سے بڑی تو اس سے دوسری ہے اور اس سے بڑی ایک سب سے بڑی آپ میں خصوصیت تیبہ یہ تھی کہ آپ افود اور گزر کرتے تھے سب کو معاف کرتے تھے آج ہماری سب سے بڑی بیماری ہے کسی کو معاف نہیں کرتے ہاں کسی کو نہیں سب کا ساری لوگ کے تعلق سے ہمارے دلوں میں جو ہے وہ غلط صلح چیز ہے مہری بھی ہوتا ہے ہم سب کو معاف کرتے اور ایسے ایسے لوگوں کو آپ نے معاف فرمایا کہ آپ سوچ کے دیکھیں کہ آپ کے ساتھ جو زیادیتیاں ہوئیں اور آپ کے ساتھ جو ظلم ہوا شاز و ناظری کو ہوگا جس کے ساتھ اس طرح کی چیز ہوئی مرنہ الحمدللہ جہاں تک ہمارے خصوصات کو کسی کے ساتھ نہیں اور ویسے لوگوں میں آپ نے بالکل اور معاف کیا تو ایسے کیا کہ پھر جیسے کہ اس نے کام کیا ہی نہیں دوبارہ کبھی اس کو یاد نہیں دلایا کبھی کچھ نہیں واقعہ تو بہت ہے اس کے اندر ایک بہت بڑا واقعہ صیرت کا جو وحشی بن حرب رب العلانو تھے تو ان کا واقعہ مشہور ہے کہ انہوں نے حضرت حمزہ بن حمد المطلب رب العلانو جو حضرت حمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے اور آپ کے ہم عمر تھے اور مختلف رابط اور اسلام کے لیے بہت بڑے ایک اصحاب تھے اصحاب اسلام کا تو ان کو وحشی جو ہے وہ ان کو شہید کر دی اور شہید کر کے وہاں سے وہ نکل لیے اور پھر جب مکہ فتح ہوا تو حضرت حمد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات لوگوں کے نام دیئے تھے اور آپ نے فرمایا کہ ان سات کو جہاں بھی تم پاؤ تو ان کو جہاں وہ چاہے حتیٰ کہ اگر وہ قابط اللہ کے غلاف سے لٹکتے بھی پائے جائے تب بھی ان کو مارے جائے ختل کرنا چاہتے ہیں اس میں ایک نام ان کا بھی تھا تو اب وہ جب لسٹ پبلش ہوئی زمدن میں آپ سے کہوں کہ حضرت حمد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے صرف دو یا تین ختل ہوئے باقیوں کو آپ نے ان میں سے ہی ماف کر دیا بات بولنے کے باوجود بھی بہرحال وہ الگ چیز ہے تو یہ جو ہے وہاں سے نکلے وہ طائف چلے گئے اب پھر طائف کی جب جنگ ہوئی تو وہاں سے نکلے اور نکل کے اب انہوں نے سوچا کہ یہاں سے جزر اطلعرم میں تو میرے لئے کوئی مقام نہیں ہے تو اب یہاں سے بھاگ لو اور یہاں سے سمجھے کہ چلے جائیں کہیں ہم شابشہ یا کہیں جہاں بھی ہے تو جا رہے تھے تو راستے میں ان کے کوئی مسائل ملے دوست ملے کہاں کیا ہو رہا ہے کہاں جا رہا ہے میں جا رہا ہوں کیا کروں میری جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں تو انہوں نے کہا نہیں ایسا کرو تم جاؤ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مافی مانگو تو انہوں نے کہا مجھے ماف کرے گا ہم اللہ کو کرتے ہیں سب کو ماف کرتے ہیں اور مافی مانگ لو اسلام قبول کر لو وہاں تک میں پہنچو کہتے ہیں وہاں جیسے بھی کرو پہنچ جاؤ ورنہ تم کب تک پھرتے رہو انہوں نے کہا کوئی نہ کوئی تم وہاں ایک نہ ایک دن کوئی پکڑے گا پکڑ کے تو مرو گے تو اس کے بجائے جا کے مافی مانگو

تو وہ یہ پورا سیرت میں واقعہ بڑا دلچسپ ہے کیونکہ حضر بحیث رحمت اللہ رضی اللہ عنہ کو کچھ لوگ صحابہ مل کے بعد میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے بعد میں کسی نے پوچھا کہ تمہارا کیا ہوا خصہ تو انہیں کہا میں تمہیں وہ ایسے طریقے سے اور وہ چیز سناؤں گا جو کہ میں نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی تھی تو میں آپ سے جبانہ کر رہا ہوں یہ انہوں نے خود بتایا تو کہا کہ میں نے اپنے آپ کو پورا تھاب کے امامہ سر پہ شملہ باندھ کے اس طرح سے نکاب باندھ کے سب کر کے میں کسی بھی طرح حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محفظ میں پہنچ گیا اور سامنے آکے بیٹھ گیا اور اپنا ہاتھ آگے کیا اور کہا کہ میں اسلام قبول کرنے آیا ہوں اشہد انہا کا رسول اللہ تو میں مانتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کی خوابی نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور آپ نے ان کا اسلام قبول فرما لیا پھر آپ نے فرمایا تم کون تو اس نے اپنا چہرہ دکھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے یہ بتاوے کہ میرے چچا کو تم نے کیسے شہید کیا کیسے مارا تو انہیں کہے رسول اللہ میں آپ کے چچا کو مارنے کو میری کوئی خواہش وحش نہیں تھی ان سے کوئی دشمنی نہیں تھی صرف بات یہ تھی کہ میں غلام تھا اور انہیں کہا کہ آپ نہیں سمجھ سکتے غلام کی کیا حال ہوتی غلام ہوتا کیا غلامی کیا چیز ہو تو کہا کہ میں غلام تھا اور میرا مالک نے مجھ سے کہا میرے مالک نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چچا کا ختل کیا یا کروایا یا ہوا ختل جو بدر میں ان کا ختل ہوا تھا تو انہیں کہا کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کو ختل کرو تو میں تمہیں رہا کر دوں گا تو وحش نے کہا کہ ایک غلام کو رہا ہونا وہ ایسا ہے جیسا کہ مردے کو جان اس میں پھونک دی جائے تو میں نے کہا ٹھیک ہے تو کہا کہ مجھے وہ بھالا جو ہے پھیکنے کی مہارت ہے تو میں جو ہے وہ اہ اہد میں گیا مسلمانوں سے لڑنے کی نیت سے نہیں گیا کسی سے دشمنی تھی اس لئے نہیں گیا صرف اس لئے گیا کہ میں اپنی آزادی اہد میں گیا کو حاصل کر سکو اور کوئی نہیں ہے میری کسی سے دشمنی نہیں تھی کچھ نہیں تھی تو کہا کہ میں اپنا بھالا لیا اور میدان جنگ میں دیکھتا تھا کہ حمزہ کہاں ہے فضیلانو تو کہا کہ ایک جگہ میں دیکھا کہ وہ لڑ رہے ہیں اور ان کے دونوں ہاتھوں میں تلوار ہے مومن جو آدمی لڑتا ہے تلوار سے تو ایک ہاتھ میں تلوار ہوتی ہے ایک ہاتھ میں ڈھال ہوتی ہے انہیں کہا ان کے دونوں ہاتھوں میں یہ حضرت حمزہ و حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصیت تھی انگریزی میں ایمی ڈیکسٹرز کہتے ہیں کہ وہ دونوں ہاتھ پر تلوار دونوں ہاتھ سے لڑتے تھے لیفٹ ہینڈ اور رائٹ ہینڈ تو کہا کہ میں جگہ پڑا مجھے تاجب ہوا کہ یہ ایک اس طرح ایک ایسے کہ ڈھال کا تو نام و نشان ڈھال ہی نہیں ہے اور دونوں ہاتھوں میں تلوار ہے اور دونوں ہاتھوں سے وہ لڑ رہے ہیں اور کہا کہ وہ ایسے تھے کہ جیسے ایک شیر بور ہو کہ بہت ہی ان کا جو جلال تھا اور وہ تھا اور کہا کہ میں دیکھ رہا تھا کہ ان کی نظر جو ہے وہ چوہ ترس ان کی نظر گھوم رہی کوئی بچ نہیں سکتا ان نظر سے چھپ نہیں سکتا تو کہا کہ بڑی محنت سے میں نے اپنے آپ کو ایک پتھر تھا اس کے پیچھے میں دپک کے میں بیٹھ گیا پھر ان نے کہا کہ ایک دشمن ان کے سامنے آیا حضرت حمدہ بلحمد الرموت علیہ السلام کے سامنے تو آپ نے تلوار سے ایک وار کیا اس طرح سے دائنی طرف سے باہی طرف ایسے وار کیا تو جب وار آپ نے کیا تو دشمن ہسا اور ہس کے بولا کہ مجھے نہیں لگی بچ گیا میں تو حضرت حمدہ نے کہا کہ ایک خدم آگے لو تو وحشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ دشمن ایک خدم آگے لیا تو اس کا جسم دو ٹکڑے ہو کے گر گیا تو تلوار جو ماری حضرت حمدہ نے رضی اللہ عنہ نے تو وہ تلوار اس کے ایک طرف سے دوسری طرف نکل گئی اس کو پتہ بھی نہیں لگا اتنی خوت سے وہ وار ہوا تو وحشی نے فرمایا رضی اللہ عنہ نے کہ جب یہ ہوا اور وہ دشمن گرا اور اطراف کوئی نہیں تھا تو میں دیکھا کہ حضرت حمدہ جو ہے تھوڑا ریلیکس کی جو ان کی نظر چوتھ طرف تھی اور ایک یعنی جوش تھا مقابلے کا وہ اس وقت ذرا تھوڑا سا ریسٹ آپ نے کیا تو انہوں نے کہا میں دیکھا یہ میرے لئے موقع صحیح اور میں نے میرا بھالا آپ نے پھیکا اور اس نے کہا کہ وہ اس طرف سے اندر گیا اور نیچے سے نکلا تو بھالا آپ کے جسم میں میں نے کہا کہ باویٹوز اس کے وہ گرے نہیں اور تلوار ہاتھ میں ہی تھی اور دیکھ رہے تھے تو ویشی نے کہا میں تو اور بھی خوفزدہ ہو گیا کہ میرا کیا ہوگا کہا کہ مگر وہ بہت زخم جو اس کا تھا اور بھالا پورا دیسم کے اندر سے تھا تو بازار کے باہر تھا تو آپ جو ہے وہ گر گئے حضرت ویشی نے فرمایا اس لئے کہا رسول اللہ میں میں ! بہت دیر تک وہیں اپنے پتھر کے پیچھے بیٹھا رہا میں حالانکہ میں جانتا تھا کہ تو گر گئے ہیں اور ممکن ہے وہ فوت بھی ہو گئے تب بھی میں خریب جانے سے ڈر رہا تھا مرنے کے بعد بھی اتنا روب تھا کہ میں خریب جانے سے ڈر رہا تھا اب کچھ وقت گزرا میں سمجھ گیا کہ تو ختم ہو گئے تو کہا کہ میں گیا اور میں دیکھا کہ وہ تو گزر گئے ہیں میں نے اپنا بھالا نکالا اور میں سیدھا واپس چلا گئے کہا کہ میں کسی اور آدمی کا ہاتھ نہیں لگایا کچھ نہیں میرا کام کھا میرا کام میں نے ختم کیا میں گھر چلا گئی میں بات اس لئے تفصیل سے نہیں کہہ رہا ہوں کہ حضور ﷺ کے افود اور گزر کی بات وہی کہہ رہے تھے آپ نے فرمایا کہ یہ پورے میرے بیان میں یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے وہ پوری وقت میں وہ حضور ﷺ زار و خطا روتے گئے روتے گئے روتے گئے آپ کی داڑی مبارک آپ کے آنسوں سے بھر گئی آنسوں نیچے بھائینے لگے جب انہوں نے کہا جب میں بات ختم کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایویشی تم اگر میری مجلس میں آؤ تو کہیں پیچھے بیٹھو تاکہ میں تمہیں دیکھ نہ پاؤں کیونکہ تمہیں دیکھتا ہوں تو میرا زخم دوبارہ زندہ ہوتا ہے تکلیف زیادہ ہوتی ہے اب میں آپ کے سامنے یہ بات از کروں آپ یہ نہیں کہا کہ اچھا ٹھیک ہے دفع ہو جاؤ دوبارہ ادھر نہیں آنا یہ نہیں بولا بولا بھی تو کیسے بولا روکا نہیں کیونکہ امتی ہے امتی کو اپنے دیدار سے اپنی صحبت سے محروم نہیں کیا حالانکہ وہ سمتی کی وجہ سے آپ کو اتنی تکلیف پہنچی تب بھی اپنے دیدار اپنی صحبت سے محروم نہیں کیا اور بولا بھی تو ایسے بولا آپ نے کہ اپنی تکلیف کو بائن کیا مجھے تکلیف ہوتی ہے کیونکہ میرے چجائے ہزارتے ہیں یہ نہیں کہا تمہاری شگل خراب ہے یا تم سامنے ماتا ہو تمہاری شگل نہیں ہٹ کے بیٹھو کئی پیچھے بیٹھو تاکہ میں دیکھو نہیں کیونکہ میرے زخم زندہ ہوتا ہے

تو اس میں اپنی بات کو مکمل کرتا ہوں کہ سیرت نبی کے پڑھنے کا اور سیرت نبی کو سٹڈی کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم حضور اکرم ﷺ کے جو سنتیں ہیں اور آپ کی جو عادتیں ہیں اور آپ کے جو اخلاق ہیں اور اتوار ہیں ان کو اپنی زندگی میں داخل کرنے کی کوشش کریں اس کی نیت کریں اور کوشش کریں یہ تو ظاہر بات ہے کہ اس مقام پہ تو ہم پہنچنے نہیں سکتے مر کچھ تو ایک پرشاہ ہی پڑ جاوے ایک کرن تو آ جائے تاکہ ہماری زندگی میں ہم تبدیل تبدیل ہی ہماری زندگی میں خود دیکھیں تو چونکہ افوہ درگزر کی بات ہو رہی تھی آپ لوگوں میں گزارش کروں کہ اگر آپ کے دل میں کسی کے بارے میں کوئی بھی اگر غصہ ہے یا کوئی بھی اگر آپ کے ایک ایک انتقام کیجئے آپ کو خواہش ہے یا ایسی کوئی بھی چیز ہے تو اسی وقت اس کو آپ رد کر دیں جو بھی ہے ان کو آپ ماف کر دیں کیونکہ حضرت اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماف کیا تھا اور آپ اللہ دعا کریں کہ اہلا تیرے نبی کی اتباع میں میں یہ کر رہا ہوں تو لہذا تو مجھے ماف کر دیں میں اللہ سے دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ ہمارے عبدالقلیم بھائی کو حضر عظیم مناعت فرمائے کہ اتنی مبارک اتنی مبارک عنوان پہ آپ نے سب کو یہاں پہ اکھٹا کیا ہے اللہ تعالیٰ آپ کے آپ کی زندگی میں آپ کی گھر میں خاندان میں اس کی برکت سے اللہ نوازے اور الحمدللہ میں بہت بہت مشکور معمول ہوں اور میں دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کو ہم کو سب کو حضور ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا اور پیدا ہونے اللہ نے ہم کو احساس احساس انعید فرمایا اب اس کی ذمہدائی پورا کرنے کی بھی اللہ نے ہم کو توفیق انعید فرمائے اور اللہ اس کو ہمارے لئے آسان فرمائے

Allah hamari madad kare aur Allah Ta’ala hamare liye hum se raazi ho jaye. Aur jab hum jaayen Allah ke saamne, toh Khidr Akm (AS) ki mahfil-e-mubarak mein hum ko usi tarah Allah haazir hone ka mauqa na’eed farmaaye aur hum ko us se nawaaze. Insha’Allah, was-sallallahu alayhi wa alihi wa ashabihi wajamee’in barhamataki wa rahmataki.

Musiqi